ناگپور22اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پیر کو دعویٰ کیاہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کے لیے قانون کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ سنگھ کبھی نہیں بڑھے گا بھلے ہی وہ نامور لوگوں کو اپنے پروگراموں میں مدعوکرکے اپنی شبیہ کوبہتر بنانے کی کتنی بھی کوشش کیوں نہ کر لیں۔قرض سے لدی کمپنی آئی ایل اینڈ ایفیس کے واضح تناظر میں، یشونت سنہانے کہاہے کہ ملک کو’’ادائیگی بحران‘‘کا سامنا ہے کیونکہ لائف انشورنس کارپوریشن کے ذریعے بینکوں کونکالنے کے لیے عوامی دولت کا’’غلط استعمال‘‘کیاجا رہاہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق بی جے پی لیڈر نے پارلیمانی قانون کے آر ایس ایس کے بنیادی مطالبہ قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاہے کہ جب سپریم کورٹ میں اس معاملے پر سماعت کی جا رہی ہے تو پارلیمنٹ سے قانون کس طرح منظور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کا (بھاگوت کے بیان کا) مطلب ہے کہ آپ سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ سنانے سے روکناچاہتے ہیں۔اگرچہ میں نے بی جے پی چھوڑ دی ہے لیکن (میں جانتا ہوں) بی جے پی کا موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اتفاق رائے سے یا عدالت کے فیصلے کے ذریعے کیاجاناچاہیے۔سنہا نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت عدالت میں ہو رہی ہے اور انہیں فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔سنہا نے کہاکہ آر ایس ایس نے اپنی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوششوں کے تحت سابق صدرپرنب مکھرجی، رتن ٹاٹااوردیگرکومدعوکیاہے۔لیکن آر ایس ایس چیف کا بیان ثابت کرتا ہے کہ یہ (تنظیم) کبھی نہیں بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کون جیتے گا۔راجستھان میں بی جے پی کے امکانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے یشونت سنہا نے اس ریاست کے ایک رہائشی کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیاہے۔انہوں نے کہاہے کہ اس شخص کی رائے تھا کہ بی جے پی راجستھان میں ہار جائے گی۔